Posted by: adbistan on: February 2, 2011

کائناتی ہیں سلسلے سارے
یک نقاطی ہیں مرکزے سارے
ایک کونے میں جا کے ملتے ہیں
لامکانوں کے زاویے سارے
ایک منزل پہ آ کے رکتے ہیں
ہر طرف سے یہ راستے سارے
ایک جیسی ہے روشنی سب کی
ایک جیسے ہیں یہ دیئے سارے
یک مٹی ہے ایک پانی ہے
نقش فانی ہیں ایک سے سارے
ایک مرکز ہے ہر گھماؤ کا
ایک مرکز میں دائرے سارے
ایک چہرے کی ضوفشانی میں
عکس و معکوس گم ہوئے سارے
ایک بے چہرگی کا عالم ہے
ایک حیرت میں آئنے سارے
ایک پنگھٹ ہے، اک مسافر ہے
ایک گوری کے ہیں گھڑے سارے
ایک دریا ہے دو کنارے ہیں
ایک کشتی میں بھر گئے سارے
ایک جگنو ہے ایک جھاڑی ہے
ایک شعلے کے ترمرے سارے
کتنے سادھو، مہاتما، یوگی
ایک جنگل میں آ بسے سارے
اک حقیقت کا سامنا ہے مجھے
اک حقیقت کو پا چکے سارے
ایک ٹھوکر پہ ساری دنیا تھی
ایک کھڈے میں جا گرے سارے
ایک خواہش کے سب اسیر ہوئے
ایک دھوکے میں آ گئے سارے
ایک جادو سے آ گئے واپس
ایک منتر سے چھو ہوئے سارے
اک گرہ اور گنجلک اتنی
ایک ڈوری کے ہیں سرے سارے
ایک پتھر کی مہربانی ہے
پافگاروں کے آبلے سارے
ایک کٹیا ہے اور شہزادہ
اک محبت نے دکھ دیے سارے
اک محبت کی آبیاری ہے
ایک پھل کے ہیں ذائقے سارے
میں نے تنہا سفر پہ جانا تھا
ساتھ رستے بھی چل پڑے سارے
ہر کوئی بس یہی سمجھتا ہے
میرے ہونے سے ہو گئے سارے
ایک دوزخ ہے پیٹ بھی ناصر
ایک لقمے پہ لڑ پڑے سارے
نصیر احمد ناصر