ادبستان

اے سال کی پہلی صبح بتا

Posted by: adbistan on: January 2, 2011

اے سال کی پہلی صبح بتا
کیا اُن کا مقدر بدلے گا
جو بجھتے دئیے کی صورت میں
جیون کی منڈیر پہ رکھے ہیں
اِک درد کی گٹھڑی سر پہ لئے

اِک دکھ کی چادر اوڑھے ہوئے
کسی غم کو رخصت کرتے ہیں
کوئی رنج نیا مل جاتا ہے
جو حرفِ دعا کو تھامے ہوئے
اپنے حصے کی ایک کرن
اُمید کے شہر میں ڈھو نڈتے ہیں
جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
چلتے ہیں اور نہ ٹھہرتے ہیں
اے سال کی پہلی صبح بتا
کیا میری اور میری جیسی
لاکھوں آنکھوں کے خواب کبھی
تعبیر کا سورج دیکھیں گے
وحشت کا رستہ روکیں گے
کیا کچھ لمحے ترے دامن میں
روشن ہیں ستاروں کی صورت
کیا کچھ پل ہیں تری مٹھی میں
خوش رنگ نظاروں کی صورت
کیا عشق نگر کے صحرا میں
روتی ہی رہے گی پیاس ابھی
کیا گھائل دل کے زخموں کو
مرہم کی رہے گی آس ابھی
اے سال کی پہلی صبح بتا…
حمیرا راحت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Watch video at Vodpod.
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.