ادبستان

غزل ۔۔ سید انور جاوید ہاشمی

Posted by: adbistan on: July 26, 2011

بے یقینی

Posted by: adbistan on: July 24, 2011

Posted by: adbistan on: July 23, 2011

ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گا

مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا
مجید امجد نے 3 جون 1966 کو اپنے بارے میں یہ پیشن گوئی کی.
ایک اخبار کی 11 مئی 1974 کی اشاعت میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق”ممتاز شاعر مجید امجد فرید ٹاون ساھیوال میں اپنے گھر پر مردہ پائے گئے.مرحوم کی میت فرش پر پڑی تھی کہ ایک شخص نے کھڑکی میں سے جھانکا جس پر 2 افراد دیوار پھاند کر اندر داخل ھوئے تو انہیں مردہ پایا.
فرید ٹاون ساہیوال سے سرشام روز ایک سائیکل سوار دھیرے دھیرے سائیکل چلاتا ہوا روانہ ہوتا راستے میں بزم فکروادب کی لائبریری میں کچھ دیر قیام کے بعد پھر روانہ ہو کر اسٹیڈیم ہوٹل میں دائیں جانب بنے ھوئے کیبن میں آ بیٹھتا،آہستہ آہستہ طالبان علم و فن وہاں جمع ہو جاتے،منحنی سے وجود والے اس سائیکل سوار کا نام مجید امجد تھا.
مجید امجد کو دنیا کی بے ثباتی ،لوگوں خاص طور پر اپنے ارد گرد پھیلے علم و فن کے داعی حضرات کی بےحسی کا بڑی شدت سے احساس تھا وہ خود کہتے ہیں
میں روز ادھر سے گذرتا ہوں ،کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گذروں گا،کون دیکھے گا
مجید امجد کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف دنیا نے اب کرنا شروع کیا ہے جبکہ مجید امجد نے خود کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ دنیا میرے خیالات کو پوجے گی، وہ کہتے ہیں
اور اب،یہ اک سنبھلا سنبھلا، تھکا تھکا سا شخص
اب بھی جسکے جھریوں والے چہرے پر اک پیلی سوچ کا بچپن ہے
ساری عمر اس کی
ابھی اس اک دھن کو بڑھاوا دینے میں گذری:
“مگن مگن بیٹھیں
چاندی کی چھت کے نیچے
اس قرنوں کے بچھونوں پر
مگن مگن بیٹھیں
چنیں خود اپنے خیالوں کے کنکر
یہ کنکر مل کر بن جائیں کے لوحیں
لوحیں، جن کو دنیا اک دن پوجے گی
اور اب یہ اک شخص——-
اک جانب کو اس کے قد کا جھکاو—
اور اسی جانب کے بوٹ کی ایڑی گھسی ہوئی
اور اسی جانب کا پلو مڑا ہوا،اک جامد بازو کے نیچے
اور وہ خود ساکت
اس کے گرد ہزاروں تیز ہراساں قدموں کا اک لہراتا جنگل
اور وہ ان قدموں کے سفر میں تنہا،
جاتے جاتے کسی نے پوچھا “بھائی کیسے ہو”
اس کی آنکھوں میں بچپن لوٹ آیا
ہنس کے وہ کہنے لگا:
” تم تو مجھے پہچانتے ہو، تم جانتے ہو جو زینہ تمہارے دل سے
میرے
دل تک ہے،
تم میرے دل تک آ سکتے ہو،
آو گے
آو بیٹھ کے اپنے خیالوں کے کنکر رولیں
یہ کنکر مل کر بن جائیں گے لوحیں
لوحیںَ جن کو دنیا اک دن پوجے گی
اور پھراک دن امڈ پڑے گا زمانہ ہماری طرف”
اور پھر مجید امجد نے اپنے خیال کے جو کنکر چنے ان سے واقعی لوحیں رقم ھوئیں جنہیں دنیا آج پوج رہی ہے اور زمانہ ان کی جانب امڈ پڑا ہے اور اب جبکہ وہ ہم میں نہیں ہیں ان کی شاعرانہ عظمت کا دائرہ پھیلتا جا رہا ھے. ڈاکٹر وزیر آغا ان کے بارے میں لکھتے ہیں “شاعر کے باطن کی دنیا خارج کی مظاہر سے منسلک اور ہم آھنگ ہے مگر یہ ہم آھنگی عافیت کوشی یا فراق کے مماثل نہیں بلکہ شدید جذبے کی پیداوار ہیں جو جزو کو کل سے مربوط کرتا ہے جس کے دباو کے تحت شاعر اپنی انا کی دیواروں کو عبور کر کے وسیع تر زندگی سے ہمکنار ہو جاتا ہے اور اس ربط باہم کو دریافت کر لیتا ہے جو کائنات میں جاری و ساری ہے”
مجید امجد کا کہنا ہے
شہر در شہر منادی ہے کہ
اے خندہ فروشان حیات
ہر بجھی روح کے آنگن میں کھلا چمن امکانات
نہ کوئی سلطنت غم ہے نہ اقلیم طرب
زندگی ہی فقط آئین جہاں بانی ہے
جانے کس تیرہ افق سے یہ گھٹاوں کے تھرکتے سائے
ماہتابوں کے چمکتے ہوئے سینوں سے نتھر کر آئے
ساتھ لے کر وہ خنک موج، خماریں جھونکے
جن کی زد میں مری تپتی ہوئی پیشانی ہے
اپنے سینے میں جگا کر انہی دوروں، انہی یادوں کے فسوں
پھر تمناوں کے تصویر کدے میں نگراں بیٹھا ہوں
سانے صفحہ صد رنگ رموز کونین
کانپتی انگلیوں میں موقلم مانی ہے
مجید امجد–فیض احمد فیض، ناصر کاظمی اور ن م راشد جیسے لب و لہجے کے شعرا کا ہم عصر ہے لیکن اس کے ہاں عرب و عجم کے شعری رچاو کی بجائے مقامی رنگ نمایاں ہے- مجید امجد نے اردو زبان کو مقامی رنگ دیا یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری مین زمین کی مہک نمایاں ہے یا شاید دبستان ساھیوال کا یہی خاصہ ہے. مجید امجد کی غزل کا بھی اگرچہ کوئی مقابل نہیں ہے لیکن ان کی اصل شناخت نظم ہے اپنی نئی شکل اور نئی معنوی صورت کے ساتھ. مثال کے طور پر وطن کے حوالے سے وہ کہتے ہیں
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
یہ ترے جسم تری روح سے عبارت ہے
لیکن وطن کو نظم میں انہوں نے نئے مفاہیم سے روشناس کرایا ہے
وطن ڈھیر اک ان منجھے برتنوں کا
جسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی ہوئی محنتیں دربد
ڈھونڈہتی ہیں
وطن، وہ مسافر اندھیرا
جو اونچے پہاڑوں سے گرتی ہوئی ندیوں کے
کناروں پہ
شاداب شہروں میں رک کر
کسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے (پہاڑوں کے بیٹے
مجید امجد کی مشاہداتی نظر جب توسیع شہر کے لئے ہرے بھرے اشجار پر چلنے والے تیشے پر پڑتی ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر،بانکے پہرے دار
گھنے،سہانے،چھاوں چھڑکتے،بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے،ھرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کشتے بیکل، جھڑتے پنجر،چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک،اے آدم کی آل
وہ شخص جس کی شاعری کا ہر رنگ ،انگ معنی کا ہشت پہلو لئے ہوئے تھا اپنی حقیقی زندگی کے اکہرے پن کے ساتھ سوچ کا ایک سمندر چھوڑگیا.
کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
میری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

غزل

Posted by: adbistan on: February 2, 2011


کائناتی ہیں سلسلے سارے
یک نقاطی ہیں مرکزے سارے
ایک کونے میں جا کے ملتے ہیں
لامکانوں کے زاویے سارے
ایک منزل پہ آ کے رکتے ہیں
ہر طرف سے یہ راستے سارے
ایک جیسی ہے روشنی سب کی
ایک جیسے ہیں یہ دیئے سارے
یک مٹی ہے ایک پانی ہے
نقش فانی ہیں ایک سے سارے
ایک مرکز ہے ہر گھماؤ کا
ایک مرکز میں دائرے سارے
ایک چہرے کی ضوفشانی میں
عکس و معکوس گم ہوئے سارے
ایک بے چہرگی کا عالم ہے
ایک حیرت میں آئنے سارے
ایک پنگھٹ ہے، اک مسافر ہے
ایک گوری کے ہیں گھڑے سارے
ایک دریا ہے دو کنارے ہیں
ایک کشتی میں بھر گئے سارے
ایک جگنو ہے ایک جھاڑی ہے
ایک شعلے کے ترمرے سارے
کتنے سادھو، مہاتما، یوگی
ایک جنگل میں آ بسے سارے
اک حقیقت کا سامنا ہے مجھے
اک حقیقت کو پا چکے سارے
ایک ٹھوکر پہ ساری دنیا تھی
ایک کھڈے میں جا گرے سارے
ایک خواہش کے سب اسیر ہوئے
ایک دھوکے میں آ گئے سارے
ایک جادو سے آ گئے واپس
ایک منتر سے چھو ہوئے سارے
اک گرہ اور گنجلک اتنی
ایک ڈوری کے ہیں سرے سارے
ایک پتھر کی مہربانی ہے
پافگاروں کے آبلے سارے
ایک کٹیا ہے اور شہزادہ
اک محبت نے دکھ دیے سارے
اک محبت کی آبیاری ہے
ایک پھل کے ہیں ذائقے سارے
میں نے تنہا سفر پہ جانا تھا
ساتھ رستے بھی چل پڑے سارے
ہر کوئی بس یہی سمجھتا ہے
میرے ہونے سے ہو گئے سارے
ایک دوزخ ہے پیٹ بھی ناصر
ایک لقمے پہ لڑ پڑے سارے
نصیر احمد ناصر

سبقت ۔۔۔۔ضیا جالندھری

Posted by: adbistan on: February 2, 2011

چلے تو پیروں میں پر لگے تھے
وہ راستے کی ہر اک رکاوٹ کو روندتے آگے بڑھ رہے تھے
زمین پیچھے کو بھاگتی تھی
اور ان کے قدموں کی گرد گردٰوں پہ چھا گئی تھی
ہواوٰں کے شور و شَر سے آگے
انہیں گماں تھا کہ وہ زمانے کو مات دیں گے
مگر زمانہ کہ پیر ۔ دانا ہے ، جانتا تھا
کہ ان کے قدموں سے اٹھ کے پیہم
عجیب سی ایک کچکچاہٹ
ضعیف لیکن مہیب کھٹ کھٹ
مسلسل آہٹ
دلوں کو دہشت کے ناخنوں سے کریدتی تھی
پہ چلنے والوں کو اتنی فرصت نہ تھی کہ پل بھر پلٹ کے دیکھیں
گزر گہ ۔ وقت پر کئی ماندہ رہروٰں کے
شکستہ و خستہ استخواں تھے
وہ سردمہری تھی
پھول رشتے فسردہ ہو کر بکھر گئے تھے
ہر اک تعلق بجھا ہوا تھا
ہر ایسا جذبہ جو راہ روکے، جو پاوٰں پکڑے
وہ دل بدر کر دیا گیا تھا
سماعتیں گر نصیب ہوتیں تو جان لیتے
یہ استخواں ان ہَوا سواروں سے کہہ رہے تھے
کہ خاک زادوں کی عرش و افلاک تک رسائی
دلوں کے سوزوگداز سے ہے
حیات کے سوزو ساز سے ہے
نمایش ۔ طاقت و توانائی سے نہیں ہے
محاذ آرائی سے نہیں ہے
لطافت ۔ ابر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن ۔ دود میں نہیں ہے
مئے براھیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جام ۔ نمرود میں نہیں ہے
تم اپنے اپنے دلوں میں جھانکو
دکھوں کا درماں، بہشت ۔ امکاں یہیں کہیں ہے

اے سال کی پہلی صبح بتا

Posted by: adbistan on: January 2, 2011

اے سال کی پہلی صبح بتا
کیا اُن کا مقدر بدلے گا
جو بجھتے دئیے کی صورت میں
جیون کی منڈیر پہ رکھے ہیں
اِک درد کی گٹھڑی سر پہ لئے

اِک دکھ کی چادر اوڑھے ہوئے
کسی غم کو رخصت کرتے ہیں
کوئی رنج نیا مل جاتا ہے
جو حرفِ دعا کو تھامے ہوئے
اپنے حصے کی ایک کرن
اُمید کے شہر میں ڈھو نڈتے ہیں
جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
چلتے ہیں اور نہ ٹھہرتے ہیں
اے سال کی پہلی صبح بتا
کیا میری اور میری جیسی
لاکھوں آنکھوں کے خواب کبھی
تعبیر کا سورج دیکھیں گے
وحشت کا رستہ روکیں گے
کیا کچھ لمحے ترے دامن میں
روشن ہیں ستاروں کی صورت
کیا کچھ پل ہیں تری مٹھی میں
خوش رنگ نظاروں کی صورت
کیا عشق نگر کے صحرا میں
روتی ہی رہے گی پیاس ابھی
کیا گھائل دل کے زخموں کو
مرہم کی رہے گی آس ابھی
اے سال کی پہلی صبح بتا…
حمیرا راحت

ردی کاغذکا ٹکڑا –خواجہ اشرف

Posted by: adbistan on: January 2, 2011

کیفے کھچا کھچ لوگوں سے بھرا تھا۔ ہر طرح کے لوگ کیفے میں بیٹھے چائے ، کافی اور اپنی پسند کے مشروب پی رہے تھے۔ کیفے میں تمباکو نوشی کی اجازت تھی۔ اس لئے کیفے کی ساری فضا سگریٹوں کے دھویں سے بھری تھی۔
وہ بہت دیر سے کیفے میں بیٹھاچائے پر چائے اور سگریٹ پر سگریٹ پی ر ہا تھا۔ متواتر سگریٹ پینے کی وجہ سے اس کے ارد گرد اتنا دھوان اکٹھا ہو چکا تھا کہ اس کا چہرہ تقریبا دھویں میں چھپ چکا تھا۔ کیفے میں بیٹھے سب لوگوں کی نظریں اس کی طرف تھیں۔
رات دس بجے کے قریب کیفے کے مالک نے کیفے بند ہونے کی صدا لگائی تو اس نے سگریٹوں کے پیکٹ سے آخری سگریٹ نکال کر سلگانے کی کوشش کی ۔ اس نے لائیٹر ہاتھوں میں تھام کر بار بار اس کا چھوٹا سا پہیہ گھمایا لیکن چقماق کا پتھر ایک چھوٹی سی چنگاری سے شعلہ پیدا نہ کرسکا۔ اس نے لائیٹر سے مایوس ہو کر آخری سگریٹ پیکٹ میں واپس رکھی اور زیر لب بڑ بڑایا:
“اس کمبخت لائیٹر میں بھی گیس ابھی ختم ہونا تھی۔ ” مسلسل چائے اور سگریٹ پینے کی وجہ سے اْس کے چہرے پر ایک عجیب سی اْداسی چھائی ہوئی تھی۔
کیفے کا مالک اْسے کئی سالوں سے جانتا تھا۔ جب سارے گاہک جا چکے تو وہ آکر اُس کے پاس بیٹھ گیا۔ کیفے میں کام کرنے والی لڑکی اور لڑکے نے کیفے کی صفائی شروع کردی۔ کیفے کے مالک نے اْس سے اْس کی سنجیدگی، خاموشی اور اْداسی کا سبب پوچھا۔
وہ سگریٹوں کے دھویں میں ڈوبا کیفے کے مالک کے سوال پر ایسے چونکا جیسے کسی نے اْسےجھنجھوڑکر گہری نیند سے جگا دیا ہو۔
کیفے کے مالک نے اْسے گہری سوچوں سے ہوش وحواس میں واپس آتے دیکھا تو کہنے لگا:
“تم آج اتنے اْدا س کیوں ہو۔۔۔؟ میں تمہیں کئی سالوں سے جانتا ہوں۔۔۔ تم تقریباٌ روزانہ کیفے پر آتے ہو۔ چائے اور سگریٹ پیتے ہو لیکن آج تک میں نے تمہیں کبھی اتنا سنجیدہ یا اس قدر اْداس نہیں دیکھا۔۔۔آخر آج ایسی کیا بات ہو گئی ہے؟”
کیفے کے مالک کا سوال سن کر اْس نے ایک طویل سرد آہ بھری لیکن اْس کے کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔
جواب دیتا بھی تو کیا۔ اُسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اْس کی اْداسی اور سنجیدگی کا سبب کیاہے۔ شاید وہ مڈ لائف کرائسس سے گزر رہا تھا۔
وہ اب عمر کے اْس حصے میں تھا جہاں خواہشیں دم توڑنےلگتی ہیں اور ولولے سرد پڑ جاتے ہیں۔ جہاں انسان چند لمحوں کے لئے کسی ٹیلے پر کھڑا ہو کر اپنی زندگی کے ان نشیب و فراز کا جائزہ لیتا ہے جہاں سے گزرتے وقت وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ اْسے اس مقام سے گزرنا چاہئے یا نہیں۔
کیفے کے مالک نے اْسے یوں ٹھنڈی آہ بھرتے دیکھا تو کہنے لگا:
“ایسی گہری سوچوں سے آدمی کو گریز کرنا چاہئے جن سے اسے خود ڈر آنے لگے۔ ۔۔”
کیفے کے مالک کی بات سن کر آخر وہ اْس سے مخاطب ہوا۔
” شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔ مجھے لگتا ہے میری زندگی بے معنی ہو چکی ہے۔ مجھے اب نہ کچھ پیچھے نظر آتا ہے نہ آگے۔ میں جتنا زیادہ سوچتا ہوںزندگی میں تہہ در تہہ چھپی بے مقصدیت مجھ پراتنی زیادہ کھلتی جاتی ہے۔۔۔”
کیفے کے مالک نے اْس کی بات سنی تو کہنے لگا:
“یہ صرف تمہارا مسئلہ نہیں۔ یہ ہر مڈل کلاسیے کا مسئلہ ہے۔ وہ جوانی میں بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے اور پھر ڈھلتی عمر کے ساتھ جب ان خوابوں کی تکمیل کی امیدیں چکنا چور ہونے لگتی ہیں تو وہ کرچیاں چنتے چنتے خود کو لہولہان کر لیتا ہے۔
تم بھی آج گزرے لمحوں کے دئیے زخموں سے رستے خون کو چاٹنے کی کوشش کر رہے ہو۔”
کیفے کے مالک کی بات سن کر اْس نے کانپتے ہاتھوں سے دوبارہ پیکٹ سے سگریت نکالا اور ایک بار پھر لائیڑ سے اْسے سلگانے کی کوشش کی لیکن لائیڑ کا چقماق پھر ایک چنگاری چھوڑ نے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ کیفے کے مالک نے اپنی جیب سے لائیڑ نکال کر اْس کا سگریٹ سلگایا۔
پھراْس نے بھی اپنی جیب سے سگریٹوں کا پیکٹ نکال کر ایک سگریٹ سلگایا اور دوبارہ اپنے دوست کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے بولا:
“اصل چیز لمحہ موجود کی صدا سننا، اْس کی صحیح تفہیم ، اور اْس سے ہم آہنگ رہنا ہے۔ جو لوگ لمحہ موجود کی صدا سنتے اور اْس سے ہم آہنگ رہتے ہیں بڑے سے بڑا زخم اْن کی روح کو گھائل نہیں کرسکتا۔ جو لوگ اس استعداد سے محروم ہوتے ہیں ۔ وہ کسی بھی لمحے کے چھوٹے سے چھوٹے چیلنج کا سامنا نہیں کرسکتے۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہ اصول صرف کسی ایک خاص فرد تک محدود نہیں۔ یہی اصول اقوام پر بھی لاگو ہوتاہے۔ جو قومیں لمحے کی صدا سننے اور اْس سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہ بڑے سے بڑے چیلنج سے اس طرح نبرد آزما ہوتی ہیں کہ ہر نیئے چیلنج سے نپٹنے کے بعد ان کے بانکپن اور نکھار میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔”
اْس نے کیفے کے مالک کی بات سن کر سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا اور کہنے لگا:
“یار تم چائےبیچتے بیچتے فلاسفر کب سے ہو گئے ہو۔ ميں سمجھتا تھا تم سارا دن چائے سگریٹ بیچتے ہواور پیسے اکٹھے کرتے ہو۔ لیکن تمہاری باتوں سے لگتا ہے تم سوچتے بھی ہو۔”
“میں سوچتا ضرور ہوں۔ لیکن تمہاری طرح نہیں۔ تم شاید بھول رہے ہو میں نے بھی تمہاری طرح یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی تھی۔ لیکن میں نے سول سروس کا امتحان دینے کی بجائے یہ کیفے کھولنے کو ترجیح دی ۔ اب تم ملازمت سے فارغ ہو کر سارا دن یہاں بیٹھے چائے اور سگریٹ پی کر گزرے لمحوں کی بے رحمی کا ماتم کرتے رہتے ہو جب کہ میں ہنسی خوش اپنے گاہکوں کے ساتھ اپنا وقت گزارتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ميں زندگی کے آخری لمحے تک یہ شغل اسی جوش و جذبے کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہوں۔”
کیفے کے مالک کی بات سن کر اْس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ جب سے یہاں بیٹھا تھا یہ اْس کے چہرے پر پھیلنے والی پہلی مسکان تھی۔
اْس کے چہرے پر پھیلتی مسکان دیکھ کر کیفے کے مالک نے اطمینان کا سانس لیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج چائے پیتے اور سگریٹوں کے کش کھینچتے وہ یہیں فوت ہو جائے گا اور اْسے خوامخواہ اْس کے سفر ِآخرت کا بندوبست کرنا پڑے گا۔
آخر وہ اُس کا دوست تھا۔ چائے سگریٹوں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن وہ ڈیپریشن سے اْس کے کیفے میں فوت ہو جائے یہ اْسے قبول نہیں تھا۔
اُسے مسکراتے دیکھ کر کیفے کے مالک کو اْس کی اور اپنی جوانی کازمانہ یاد آیا۔ تب وہ دونوں یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے طالب علم تھے۔
یونیورسٹی سے فارغ ہو کر وہ دونوں گھنٹوں انگریزی بولنے کی پریکٹس کرتے۔ اگر کوئی برطانوی یا امریکی سیاح ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اْسے کسی نہ کسی طرح گھیرلیتے تا کہ اُس کے ساتھ انگریزی بولنے کی پریکٹس کر سکیں۔
ان دنوں زبان سیکھنے کے جدید ذرائع موجود نہیں تھے۔ ان کا مشغلہ تھا کہ پڑھائی سے فارغ اوقات میں وہ ہر اُس جگہ جاتے جہاں ان کی کسی گورے سے ملاقات ہو جائے۔ تب وہ ہر گورے کو برطانوی اور امریکی سمجھتے تھے۔ لیکن جب انہیں پتہ چلتا کہ جو گورا ان کے ہاتھ لگا ہے وہ کسی اور ملک سے تعلق رکھتا ہے اور اس سے انگریزی بول کرخود ان کی انگریزی خراب ہو جائے گی تو وہ فوراً اس سے جان چھڑا لیتے۔
کیفے کے مالک کا نام رضی تھا اور اس کے دوست کا نام شازی۔ رضی اور شازی ا ن کےمختصر نام تھے۔ رضی کا پورا نام رضوان تھا جو مختصر ہو کر رضی رہ گیا تھا۔ شازی کا پورا نام شہزاد تھا جو سکٹر کر شازی بن گیا تھا۔
یونیورسٹی کے زمانے میں جب بھی رضی اور شازی کے درمیان مستقبل کے بارے میں گفتگو ہوتی رضی ہمیشہ ڈگری لینے کے بعد اپنا کیفے کھولنے کی بات کرتا جب کہ شازی ہمیشہ کہتا کہ وہ مقابلے کا امتحان دے گا اور کامیابی حاصل کرکے سول سروس جوائین کرے گا۔
کیفے کے مالک نے اسے مسکراتے دیکھا تو اُس نے اْسے وہ دن یا د دلائے جب وہ گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ انگریزی بولنے کے پریکٹس کیا کرتے تھے۔
ان دنوں کا ذکر آتے ہی اْس کے ارد گرد پھیلے سگریٹوں کے دْھویں کے بادل چھٹنے لگے۔ اْس نے کیفے کے مالک سے مخاطب ہوتے ہوئےکہا:
“یار رضی ۔ دیکھو تم نے کیفے کھولا۔ میں سول سرونٹ بنا۔ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہا۔ شادی اس لئے نہ کر سکا کہ سول سروس کا زعم مانع رہا۔ اب نہ بیوی ہے نہ بچے۔
اب میرے پاس اٹھنے بیٹھنے کی دو ہی جگہیں ہیں ۔ افسروں کا کلب جہاں سارے ریٹائرڈ افسر رات دن بیٹھے چائے اور سگریٹ پیتے رہتے ہیں ۔ یا تمہارا کیفے ۔ کلب جانے کی بجائے میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ دن رات یہاں بیٹھ کر چائے اور سگریٹ پیئوں اور وقت کٹی کروں۔
افسروں کے کلب میں سول سروس کے ساتھی اپنی ملازمت کے زمانے کے قصے سناتے رہتے ہیں جو زیادہ تر ان کی اناؤں کی شکست و ریخت کے گرد گھومتے ہیں۔
میں یہ قصے سن سن کر تنگ آ چکا ہوں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ پہلے انہوں نے کتنی بار وہ قصے سنائے ہوتے ہیں۔ ہر قصہ اس طرح سناتے ہیں جیسے پہلی بار سنا رہے ہوں۔ حالانکہ اْس سے پہلے وہ وہی قصہ کوئی درجن بار دہرا چکے ہوتے ہیں۔
کیفے کے مالک نے اس کی بات سنی تو کہنے لگا:
“ميں روازنہ ایک ہی کام کرتا ہوں۔ تقریباً گاہک بھی وہی ہوتے ہيں۔ وہ دن میں کئی بار کیفے میں آتے ہیں لیکن میں کبھی اْن سے بور نہیں ہوتا۔ وہ جب بھی میرے کیفے میں داخل ہوتے ہیں اْن کے چہرے پر ہمیشہ ایک نئی کہانی لکھی ہوتی ہے۔
چاہے وہ دن میں تین بار کیفے میں آئیں ہر بار ان کےکا چہرہ ایک نئی کہانی سنا رہا ہوتا ہے ۔ کہانی کی جزیا ت چاہے ایک جیسی ہوں لیکن ان کے سنانے کا انداز ہمیشہ مختلف ہوتا ہے۔ “
کیفے کے مالک کی بات سن کر ایک بار پھر اُس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اْس نے سگریٹ کا خالی پیکٹ کھولا شاید اْس ميں ابھی کوئی سگریٹ موجود ہو۔ لیکن سگریٹوں کا پیکٹ تو کب کا خالی ہو چکا تھا۔ کیفے پر کام کرنے والا لڑکا اور لڑکی بھی کب کے جا چکے تھے۔
کیفے کے مالک نے اپنی جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر اُسے سگڑیٹ پیش کیا۔ اْس نے سگریٹ ہونٹوں میں دبایا تو کیفے کے مالک نے اپنے لائیٹر سے اْس کا سگریٹ سلگایا۔
“یار تم نے اچھا کیا۔ کسی نوکری کے چکر میں نہیں پڑے۔ ہم نے مقابلے کا امتحان دیا۔ اچھی نوکریاں کیں۔ سرکاری کام سے دنیا بھر کے ملکوں کے دور ے کئے ۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں رہے۔ بڑے بڑے خوبصورت لوگوں سے ملے۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ لیکن ریٹائر منٹ کے بعد لگتا ہے کہ اپنی زندگی ردّی کی ٹوکری میں گرا کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس کی کوئی افادیت نہیں۔”
کیفے کے مالک کو لگا زندگی بھر کا دکھ اْس کی آواز میں سمٹ آیا ہے۔ سگریٹ کے دھویں کے مرغولوں کے پیچھے اْس کا چہرہ کچھ اور بجھ سا گیا۔
اُس نے اْس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پھر کیفے کی دیوار پر آویزاں گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا: “دوست رات کے بارہ بج چکے ہیں۔ اب ہمیں چلنا چاہئے۔ “
پھر وہ دونوں اٹھے اور کیفے کا دروازہ بند کرکے سرسراتی رات کے سایوں میں ہولے ہولے قدم اٹھاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دئیے۔ وہ تھوڑی دور تک ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دئیے لیکن پھر رفتہ رفتہ رات کی تاریکی میں گم ہو گئے۔
**********

Posted by: adbistan on: December 23, 2010

Posted by: adbistan on: December 23, 2010

سلام

Posted by: adbistan on: December 10, 2010


Watch video at Vodpod.
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.